برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق پنٹاگون نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ایک آرمی انٹیلی جنس آفیسر کی افغانستان کے اندر گزرے شب وروز کی داستان پر مشتمل کتاب کی 10ہزار کتابیں جلا دی ہیں۔تاہم انٹرنیٹ پر 2ہزار ڈالر دے کر کتاب پڑھی جا سکتی ہے۔ لیفٹینٹ کرنل شیفر کا کہنا ہے کہ یہ کتاب امریکی قومی سلامتی یا امریکیوں کی زندگیوں کو داوٴ پر لگانے کے لیے نہیں لکھی گئی تھی۔ افغانستان میں خطرناک صورت حال کے باوجود امریکی آرمی ریزرو کمانڈ نے اس کتاب کو شائع کرنے کی اجازت دی تھی۔ لیکن جب شائع ہوگئی تو پنٹاگون کی انٹیلی جنس یونٹ نے اس پر اپنی تشویش کا اظہار کر دیا جس کے بعد بالآخرکتابوں کو نذرا ٓتش کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اظہار خیال کا حامی ملک نہیں ہے امریکہ اظہار خیال، انسانی حقوق، اور جمہوریت کے اچھے الفاظ کو صرف اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتا رہتا ہے، ورنہ عملی طور پراسے ان چیزوں سے کوئی محبت نہیں ہے۔
........
/110